قرنطینہ کے دنوں میں ہمارے ہاتھ لگی “جنٹلمین الحمدللہ” ۔

commentary-gentleman-alhamdulillah

– ازقلم :  ایم شریف رانا –

جس طرح ہر ماں اپنے کالے کلوٹے پتر کو بھی “جنٹلمین” سمجھتی ہے اسی طرح فوج والے بھی اپنے افسر کو “جنٹلمین” کہتے ہیں چاہے وہ کتنا ہی “کوجا” کیوں نہ ہو۔ ہم تو ویسے ماشاءاللہ بچپن سے ہی بڑے پیارے تھے تو ہماری اماں بھی بچپن میں ہمیں “پینٹ بشرٹ” پہنا کر کہا کرتی تھیں کہ میرا پتر جنٹلمین بن گیا

جنٹلمین کا ذکر اس لئے کیا کہ قرنطینہ کے دنوں میں ہمارے ہاتھ ایک جنٹلیمن فوجی (جی ہاں اصلی والا فوجی) کی لکھی ہوئی کتاب “جنٹلمین الحمدللہ” لگی۔ ہمیں یہ کتاب اتنی اچھی لگی کہ ایک ہی بیٹھک میں ساری کی ساری ختم کر کے ہی سانس لیا۔ دوران مطالعہ ہم لکھاری کرنل اشفاق کے شگفتہ جملے پڑھ کر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتے رہے اور ہاں یہ ہنسی بندوق کے زور پر نہیں بلکہ بے ساختہ تھی

صد شکر کہ ہمیں یہ کتاب پڑھنی نصیب ہوئی۔ ورنہ ہمارا کیا جاتا لکھاری ہی پڑھے جانے کی سعادت سے محروم رہتا

کتاب کے لکھاری کرنل اشفاق حسین فوج کی ایجوکیشن کور سے تھے۔ وہ جامعہ پنجاب شعبہ ابلاغیات کے فارغ التحصیل ہیں جہاں آج کل ہم وقت گزاری کر رہے ہیں اور ہماری ہی طرح اپنے دور طالب علم میں نکمے اور ویلے تھے۔ ان کو دیکھ کر ہمت بندھتی ہے کہ کوئی مسلئہ نہیں بندہ ڈیپارٹمنٹ میں ویلا بھی پھر لے تے فیر وی کچھ نئیں ہوندا۔ اگے اللہ مالک اےl آہو

عموما فوجیوں کے بارے میں تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ کھڑوس، کامن سینس سے عاری اور ہر بات پر “یس سر” ہی کہنے کے عادی ہوتے ہیں مگر “جنٹلمین الحمدللہ” پڑھ کر اندازہ ہوا کہ فوجی اتنے برے بھی نہیں ہوتے۔ بعض بہت شگفتہ حس مزاح بھی رکھتے ہیں۔ اور بات کو دلچسپ پیرائے میں بیان کرنا بھی جانتے ہیں۔

یونیورسٹی کی حسین و دلکش ذندگی سے گزر کر کاکول اکیڈمی کی سخت ٹریننگ سے فارغ نوجوان افسروں کی ٹاٹھ باٹھ کے شاہانہ مناظر کو جس طرح لکھاری نے اپنے قلم میں سمویا ہے اور جتنے مزاحیہ فقرے لکھے ہیں، شاید بڑے بڑے ادیب بھی اس صلاحیت ہر رشک کرتے ہوں۔ جہاں فوج میں کمیشن حاصل کرنے کے بعد نوجوان فوجی افسر کی ذمہ داریاں اور ٹھاٹھ باٹھ کا ذکر کیا وہاں بطور مارشل لاء آفیسر پیش آنے والی مشکلات کو بھی بڑے احسن طریقے سے بیان کیا ہے۔ کتاب میں کرنل صاحب کا شمالی علاقہ جات کا معلومات بھرا دلچسپ سفر نامہ بھی شامل ہے۔

مزاح پڑھنے کا یہ فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ وقتی طور پر ہر طرح کی ٹینشن و پریشانی دور ہو جاتی ہے۔ کورونا کے اس تناو زدہ ماحول میں ایسی کتاب کا مل جانا کسی نعمت سے کم نہیں۔ کرنل اشفاق صاحب کی مزید کتابوں کے نام درج ذیل ہیں۔

جنٹلمین بسم اللہ
جنٹلمین اللہ اللہ
جنٹلمین سبحان اللہ
جنٹلمین استغفر اللہ 🙂

“جنٹلمین الحمدللہ” پڑھنے کے بعد ہم چاہتے ہیں کہ “جنٹلمین بسم اللہ” کو بھی پڑھنے کی بسم اللہ کر لی جائے۔ آپ بھی بسم اللہ کریں اور یہ کتب ضرور پڑھئے مگر مجھ سے مانگ کر نہیں، اپنی خرید کر

نوٹ: اگر تبصرہ پسند ہو تو دل کھول کر ہماری تعریف کریں، ہم خواتین کی طرح تعریف سننے کے لئے بے تاب ہوئے جا رہے ہیں ہاں اگر تبصرہ پسند نہیں آتا تو ہمیں برا بھلا کہنے کی بجائے کتاب کے لکھاری کو گالیاں نکالئے گا کہ انہوں نے ہی کتاب لکھی اور ہمیں تبصرہ لکھنا پڑا۔ ساتھ میں ایک “سسٹرانہ” مشورہ یہ بھی ہے کہ گالیاں بھی زرا دھیان سے۔ یہ نہ ہو کالا ویگو ڈالاتہانوں چکن آ جائے

|Pak Destiny|

One Response

  1. Rao Muhammad Shabaz Reply

Leave a Reply

LATEST