fbpx

Dawn media group management needs to wake up?

Dawn media group management needs to wake up

By Sarmad Ali

   Will someone in Dawn media group management listen to the plights of its staffers as well as it’s downfall because of it’s inconsistent policies?

    Go through the article below and see the sentiments of its employees and current state of affairs in Dawn.

ڈان اخبار کی “شام”

  لگتا ہے پاکستان کی سب سے بڑے، مقبول اور اپنی جرئت مندانہ ایڈیٹوریل پالیسی کی وجہ سے عالمی شہرت رکھنے والے انگریزی روزنامے ڈان، جس کا نام صبح صادق کی روشنی سے تعبیر رہا ہے، اس کی شام ہوا چاہتی ہے.

یوں تو اس نامور ادارے میں “شام” کے آثار اس وقت سے نمایاں ہونا شروع ہو گئے تھے، جب ایک دن اچانک اس ادارے نے نصف صدی سے چلنے والے جریدے ہیرالڈ Herald کو یہ کہہ کر بند کر دیا کہ, اب یہ میگزین کمانے سے قاصر ہے. کوئٹہ کے انصاری بوک ڈیپو میں لٹکتے  کچھ پوسٹر، جن پر بلوچستان سمیت ملک کے بیشتر حساس اور اہم معملات پر اسٹوریز دکھائی دیتی ہیں ، اب بہی اس “مرحوم رسالے” کی یاد دلواتی ہیں.

ڈان کی ڈھلتی شام میں ایک اور زرد رنگ کا اضافہ اس وقت بہی دکھائی دیا، جب اس اخبار سے لمبی عرصے تک جڑے رہنے والے مدیر اعلیٰ اور اخبار کی ادارتی پالیسی اور بھترین صحافتی روایات کے امین، حمید ہارون اخبار سے خاموشی میں الگ ہو گئے. ہم جیسے سینکڑوں قارئین اور ڈان سے انسیت رکھنے والو‍ں کیلئے یہ بات کسی حیرت سے کم نہ تہی کہ، ڈان کے آب وتاب کو برسوں تک قائم رکھنے والے، حمید ہارون اس اخبار کی مالک نہیں، بلکہ ایک ملازم تہے، جو کہ اخبار کے قانونی مالکان کی تیسری نسل کے ہاتھوں سبکدوش کئے گئے یا پھر غروب سے پہلے ایک عقلمند انسان کی طرح اپنے گھونسلے کو واپس چل دیئے .

آج کے ڈان کی باگ ڈور سابق گورنر سندھ اور ہارون خانوادے کے ایک بڑے نام، محمود اے ہارون کی نواسی ناز آفرین سھگل لاکھانی کے ہاتھ میں ہے، جو کہ ان کو اپنی والدہ امبر سہگل سے ورثے میں ملی ہے.

محمود اے ہارون کو نرینہ اولاد نہ ہونے کے باعث، ان کی تمام بزنس امپائر بشمول ڈان اخبار اور ٹیلیوژن محترمہ امبر سہگل کی ملکیت میں آئے تہے.

قصہ مختصر یہ کہ ڈان کے مالکان کی تیسری نسل جو کہ باہر سے تعلیم یافتہ ہے اس ادارے کو ایک بزنس ایمپائر اور کارپوریٹ Entity کی طرح دیکھتی ہے، ان کے نزدیک ڈان اخبار کو سب سے پہلے کامیاب بزنس ہونا چاہیئے. گو کہ، ڈان اشتھارات اور آمدنی کے حوالے سے کبہی بھی ایک غریب ادارہ نہیں رہا، لیکن جنگ اور ملک کے دیگر بڑے اور ہم اثر گروپس کے برعکس، ڈان کی اصلی طاقت نیوز اور ایڈیٹوریل پالیسی  ہی رہی ہے. یہ پالیسی بڑی حد تک کمپرومائیز ہونے سے بچتی رہی ہے. شاید یہ ڈان کے بانیوں کی مرضی ہی تہی، جس کے تحت ایڈیٹوریل اور بزنس پالیسیوں کو ایک دوسرے سے دور اور الگ رکھا گیا تھا. ڈان کیلئے یہ بات مشھور رہی ہے کہ محمود اے ہارون سے لیکر حمید ہارون اور امبر سھگل تک جو بہی مالک اخبار کے ایڈیٹر سے ملنا چاہتا، وہ  مُدیر سے پہلے وقت لیتا تہا. الطاف حسین، مظھر علی، علی احمد خان، سلیم عاصمی، عباس ناصر اور ظفر عباس جیسے بڑے اور نامور صحافی ڈان کے ایڈیٹر رہے ہیں. دیگر اخبارات کی طرح ڈان کے مالکان کبہی بہی چپراسی کے ہاتھوں ایڈیٹر کو طلب نہیں کیا کرتے تھے. اب اُسی اخبار میں 15 منٹ کی نوٹس پر ملازمین کو دفتر چھوڑنے اور ورچوئل میٹنگز میں بیورو آفیسز کو اشتھار نہ لانے اور اخراجات نہ گھٹانے پر گالیاں پڑتی ہیں.

یہ بات پڑہ کر آپ کو حیرت ہو گی کہ ڈان ٹی وی کوئیٹہ کے بیورو چیف اور ایک نامور صحافی کو خاتون مالکن نے   ایک ورچوئل ملاقات میں اشتھارات پر مقالمے کے بعد نوکری سے نکال دیا. صحافی نے ٹی وی کیلئے اشتھار لانے سے یہ کہہ کر معذرت کی کہ، وہ خبریں اور اسٹوریز تو تلاش کر کے لا سکتا ہے، لیکن  بزنس نہیں، اس کے برعکس مالکن کا اسرار تھا کے بیورو چیف خود جاگر کوئیٹہ کے کاروباری اداروں سے اشتھار مانگے.

گذشتہ دنوں ڈان ہیڈ آفس میں آئی ایم ایس ڈپارٹمینٹ کے تمام ملازمین کو 15 منٹ میں نوکری چھوڑنے اور سامان جمع کروانے کا حکم دیا گیا.

عجیب بات ہے کہ برسوں تک عدالتوں اور مختلف فورمز پر ملازمین کیلئے ویج بورڈ اور دیگر مراعات پر جدوجھد کی تاریخ رکھنے والا ادارہ، خود ملازمین کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑگیا ہے. اور اب یہ تلوار ڈان اخبار کے ملک بھر میں پھیلے ہوئے دفاتر سے ہوکر ہیڈ آفس اور اس سے بھی بڑھ کر، نیوز اور ایدیٹوریل سیکشن تک پہنچ چکی ہے. ڈان جیسا ادارہ، جو کہ ڈان لیکس، سرکیولیشن، اشتھارات کی صورت میں آنے والے بیشتر تکالیف اور سرکاری دباؤ برداشت کرتا رہا، اب اپنے مالکان کی تیسری نسل کی پالیسیوں کے ہاتھوں، اہستہ اہستہ غروب کی طرف گامزن ہے. ادارہ میں پیدا شدہ اندرونی اکھاڑ پچھاڑ، ڈائون سائیزنگ اور بی چینی کی بنیادی وجہ بزنس اور اشتھارات کی کمی کو بتایا جا رہا ہے، لیکن دوسری جانب، کرونا اور دیگر وجوہات کے باوجود ڈان اخبار نے حالیہ معاشی بحران میں بھی کروڑوں کا بزنس کیا ہے. اس کی ایک مثال ویژن پنجاب، سندھ اور بلوچستان نامی وہ تازہ سپلیمنٹز ہیں، جس سے اخبار نے کروڑوں روپے کمائے ہیں.

سوال یہ ہے کہ اپنی ادارتی پالیسی اور اوپینین سے ملک کے تمام لوگوں کی آواز بننے والے ادارے میں کام کرنے والے ہزاروں افراد کے روزگار پر منڈلاتی مصیبت کے خلاف کون آواز اٹھائے گا؟

ڈان سے وابستہ کئے پرانے لوگ خاموشی سے الگ ہو گئے ہیں، جبکہ باقی ماندہ بہی سخت ذہنی الجھن کا شکار ہیں. موجودہ مالکان کی جانب سے ادارتی پالیسی کو اشتھارات سے جوڑنے کے باعث اخبار کی روایتی آزادی، صحافتی و پیشورانہ معیار اور ملازمین کا روزگار بڑی حد تک متاثر ہو رہے ہیں.

دیکھتے ہیں کہ 70 برس سے زائد عرصے تک پاکستان میں انگریزی پڑھنے والے قارئین کیلئے معیاری خبروں اور مضامین کی صبح لے کر آنے والا روزنامہ ڈان، اپنی “شام” کی طرف کیسے بڑہتا ہے.  ڈان پر منڈلاتی ہوئی یہ شام، عروج و زوال کی مسلمہ کھانی کا ایک اور  باب ہوگا یا پھر “ھارون” سلطنت کا “لاکھانی” سلطنت مین انضمام!!!

جس طرح ڈان کے اندر انتشار ابل رہا ہے، شاید ائندہ آنے والے دنوں مین سب کو خبر دینے والا ڈان خود خبروں میں رہے. ڈان میں آنے والی شام کو روکنے کیلئے، ملک کی صحافتی تنظیموں اور سب سے بڑہ کر ادارے میں اندر بیٹھے ورکرز کو کسی تپتی دوپھر میں سڑکوں پر آنا ہوگا.

(جاوید لانگاہ)

|Pak Destiny|

Leave a Reply