Dunya TV takes no shame in hiring Kamran Khan who made millions from Axact and ditched BOL team
بول کے ساتھیوں کو مشکل میں چھوڑکربھاگنے والے کا دنیا ٹی وی میں ‘دلی خوش آمدید’۔

اردو کیلئے یہاں کلک کریں

By Iram Salim

Islamabad (Pakdestiny.com) Mian Aamir Mahmood, owner of Dunya media group, has taken no shame in hiring the tainted and most controversial anchor Kamran Khan who ditched his BOL fellows recently.
Dunya media group which is accused of joining hands with Geo an Express media groups to sink the titanic of BOL had hinted not to take tainted anchors who earned bad name by ditching his fellows in BOL. The Express News anchor Gharida Farooqi had called the BOL anchors “mouse”. “Lets see how many mouses first quit BOL TV” Gharida said.
Welcoming Khan, Dunya Media Group’s CEO Mian Amir Mahmood said: “I have no doubts whatsoever that addition of Mr. Kamran Khan in the team will be a great asset for Dunya News in its mission to consolidate its position as Pakistan’s most popular, most independent and most reliable news organization.”
Will Kamran Khan who ditched BOL team saying that its management (Axact) involved in fake degree scandal. Will KK return the “haram money” amounting millions of rupees he had taken from Axact being President BOL. Since there has been no media ethics in Pakistani broadcast industry any one like Mian Aamir is ready to pick up the name who get unleash on their targets (politicians, businessmen and government officials) on the on call of their media boss.
Kamran Khan during the last PPP regime kept on bashing Asif Ali Zardari and other PPP leaders and predicting its fall. KK should have resigned from GeoNews after his shameful and wrong predictions.
KK like anchors are easily picked by media channels because they are ready to get unleashed on anyone one call by their boss. “KK also desperately needed a media platform to save his skin from FIA which is probing Axact fake degree scandal. Being President of BOL KK also knew many things. Will FIA now dare to lay hand on KK.” – Pakdestiny

 

 

ارم سلیم سے

اسلام آباد -پاک ڈیسٹنی ڈاٹ کوم – میاں عامر محمود، دنیا میڈیا گروپ کے مالک، نے حال ہی میں ساتھیوں کو مشکل میں چھوڑ کر جانے والے اور متنازعہ اینکر کامران خان کی دنیا ٹی وی کے لیے خدمات حاصل کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کی۔

دنیا میڈیا گروپ پر الزام ھے کے اس نے بول کے ٹائٹینک کو ڈوبنے میں جیواور ایکسپریس میڈیا گروپس کیساتھ ہاتھ ملا لیا ھے جبکہ اس نے داغدار اینکرز نہ لینے کا اشارہ دیا تھا جنہوں نے بول میں اپنے ساتھی صحافیوں کو چھوڑ دیا تھا۔ . ایکسپریس نیوز کے اینکر غریدہ فاروقی نے بول چھوڑ کر بھگنے والوں کو ‘چوہا ‘ قرار دیا تھا۔ ایک پروگرام میں اس نے کہا ‘دیکھیں کتنے چوھے بول کو چھوڑ کر بھاگتے ھیں’۔

کامران خان کے استقبالیے میں دنیا میڈیا گروپ کے سی ای او میاں عامر محمود نے کہا’ جناب کامران خان دنیا نیوزکی ٹیم میں ایک عظیم اثاثہ ہو ثابت ھوں گے جو کہ پاکستان کی سب سے مقبول، سب سے زیادہ آزاد اور قابل اعتماد خبروں کی تنظیم ھے’۔

سوال یہ ھے کہ کیا کامران خان بول سے کمائی گئی دولت واپس کریں گے جو کہ ایگزیکٹ نے ‘غیرقانونی’ طریقہ سے بنائی۔ سو کیا کامران خان یہ کروڑوں روپے کی ‘حرام رقم’ واپس کرے گا۔ شاید نہیں کیونکہ پاکستانی نشریاتی صنعت میں کوئی اخلاقیات نہیں۔ لحاظہ کوئی بھی ،جیسے میاں عامر، اس طرح کہ لوگوں کو لینے کے لیے تیار ھوتے ھیں جو ان کہ ایک اشارے پر کسی کو بھی [سیاستدانوں، کاروباری شخصیات یا سرکاری حکام] اپنے باس کے حکم پر ہدف بنانے کے لیے تیار ھو جاتے ھیں۔

پیپلز پارٹی کی آخری دور حکومت کے دوران کامران خان آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں پر تنقید اور اس کے زوال کی پیشن گوئیاں کرتے پائے جاتے تھے مگر افسوس ان کی کوئی پیش گوئی سحیح ثابت نہ ھو سکی جس کے لیے اخلاقی طور پر انہیں جیو نیوز سے استعفی دے دینا چاہئے تھا۔

کامران خان جیسے اینکرز میڈیا چینلز کی طرف سے اسی لے اٹھایا جاتا ہے کہ وہ اپنے مالک کی طرف سے ایک کال پرمخالفین پر برسانے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ ‘ کامران خان کو ایف ائی اے،ایگزیکٹ کی جعلی ڈگری اسکینڈل کی تحقیقات کر رہا ہے، سے بچنے کے لیے ایک میڈیا پلیٹ فارم کی شدت سے ضرورت تھی جو کہ اسے ایف ائی اے سے بچانے میں مددگار ثابت ھو گی اوروہ اس پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں کرے گی ۔ کیونکہ بول کے صرر ھونے کی حیثیت سے یقیناً کامران خان بہت سی چیزیں جانتا تھا ‘ -پاک ڈیسٹنی ڈاٹ کوم

4 Opinions given on this story

Your Opinion is Valuable

4 Opinions

  1. Lala khan Reply
  2. Lala khan Reply

Popular Posts