fbpx

پرویز رشید اور بابا رحمتے

saqib nisar baba rehmatay pervaiz reasheed

– ناظم ملک –

مسلم لیگ(ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ مجھے بے بنیاد الزام پر نااہل قراردیا ۔ بابا رحمتے ساڑھے چار کروڑ میرے کھاتے میں ڈال گئے۔میں اس فیصلے کےخلاف ریو اپیل میں گیا ہے۔جو سپریم کورٹ میں پینڈنگ ہے۔جب تک سپریم کورٹ اس کا فیصلہ نہیں کرتی میں اس وہ پیسے ادا کرنے کا پابند نہیں ہوں۔بابا رحمتے نے الیکشن کو انجیئرڈ کیا۔ہمارے لوگوں کو سزائیں دی اور نشان واپس لیے۔آج ان فیصلوں کو لے کر دھند والے اندھیر نگری مچا رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور ہائیکورٹ میں اپنے خلاف فیصلہ آنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

پرویز رشید نے مزید کہا سینیٹ کا ممبر بنو یا نہ بنو ان کی اندھیر نگری کو بے نقاب کرتا رہو گا۔پنجاب ہاﺅس کی انتظامیہ انصاف والوں کی انتظامیہ ہے۔اس طرح کے عمل سے ان کا چہرہ روز بے نقاب ہوتا ہے۔سینیٹ کے فلور پر نہیں ہر گلی اور چوراہے پر ان کے چہرے کو بے نقاب کرتا رہو گا۔میرا دل کسی پٹیشن پر نہیں کرتا لیکن میں اپنے وکلا ءسے مشاورت کرو گا۔میرا مقدمہ بہت سیدھا تھا آدمی نے کہا میں بیمار ہوں آج پیسے نہیں لے سکتا۔میرے اعتراض میں بابا رحمتے کے کیس کا اعتراض نہیں تھا لیکن اب نیا اعتراض سامنے آگیا ہے۔میں اپنے لیے انصاف لینے کےلئے قدم نہیں بڑھاﺅ گا۔مجھے معلوم ہے میرا اصلی جرم کیا ہے ۔میرا جرم کچھ اور ہے جس میں مجھے مزا آتا ہے اور میں یہ جرم جاری رکھو گا۔

 

انہوں نے مزید کہامیرا خیال تھا کہ مجھے کہا جائے گا پیسے جمع کروا دیں۔وکلا کہتے ہیں اس میں اپیل کی جاسکتی ہے، لیکن میں قائل نہیں ہوا۔اپنے لیے انصاف مانگنے سے پہلے ان کی ناانصافی کوبے نقاب کرنافریضہ سمجھتا ہوں۔جہاں موقع ملے گا اس دھند اور اندھیرنگری کو بے نقاب کرتا رہوں گا۔

پورا پاکستان جانتا ہے کہ بابا رحمتے نے الیکشن کو انجینیرڈ کیا ۔دھندوالوں اور انصاف والوں کی طرف سے رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔جب تک سپریم کورٹ فیصلہ نہیں کرتی وہ پیسے میری ذمے داری نہیں بنتے۔ڈیم فنڈ والے بابا رحمتے میرے حصے میں ساڑھے چار کروڑ ڈال گئے ہیں۔اس فیصلے کے خلاف میں سپریم کورٹ میں گیا ہوا ہوں۔پرویز رشید پیسے دینے آئے تو کہیں پیسے نہیں لینے۔پنجاب ہاو ¿س کی انتظامیہ انصاف والوں کی انتظامیہ ہے۔

|Pak Destiny|

2 Comments

  1. Parvez Parvez Reply
  2. Muhammad Yousaf Virk Reply

Leave a Reply