Several BOL anchors and reporters contact their previous employers for ‘job’ –
بول میں جانے والے کئی اینکرز اپنے پرانے “گھروں” میں واپس جانے کے لیے بے تاب

اردو کیلئے یہاں کلک کریں

By Iram Salim

Islamabad ( After a startling revelation about IT company Axact, a large number of journalists including anchors have contacted their previous employers begging them to rehire them.

Sources privy to the development told that anchors like Asma Sherazi, Maria Memon, Jasmeen Manzoor, Usama Ghazi, Nusrat Javed and a number of reporters had contacted their previous employers before joining the BOL Media Group pleading them to take them back.
An air of frustration and depression is seen in the BOL group offices in Kkarachi, Islamabad and Lahore after the fake degree scandal of its parent company Axact hit the headlines.
Reportedly a few reporters got pardon from their previous organizations and quit the BOL today. “They think after this mega scandal the BOL may meet its premature death. Already out of the screen for several months, the army of anchors the BOL hired was already frustrated. After this scandal, they are dying to get back to their previous channels to do their show. The poor soul struggling hard.”
On the other hand, the owners of other media groups are now watching this ‘drama’ and waiting for its end before welcoming these bunch of anchors back. -Pak Destiny


ایگزیکٹ کمپنی کے بارے میں چونکا دینے والے انکشافات کے بعد کافی اینکرز اور بول ٹی وی کے دیگر سٹاف نے اپنے پرانے اداروں میں جانے کے لیے کوششیں شروع کر دی ھیں کیونکہ بظاہر بول کی کشتی بری طرح ڈگمگا رھی ھے –

باخبر زرائع سے پاک ڈیسٹنی کو پتہ چلا ھے کہ بول میڈیا گروپ میں شامل ہونے سے پہلے اینکرز عاصمہ شیرازی، ماریہ میمن، جیسمین منظور، اسامہ غازی، نصرت جاوید اور نامہ نگاروں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے پہلے مالکان کو واپسی کی استدعا کی تھی –

جعلی ڈگری اسکینڈل کے بعد کراچی ، اسلام آباد اور لاہور میں بول گروپ کے دفاتر میں مایوسی اور ڈپریشن کی گہری بادل چھائے ھوے ھیں. جبکہ اطلاعات مطابق چند رپورٹروں اپنے سابقہ ​​تنظیموں کی جانب سے معافی مل گئی ھے اور آج وہ بول چھوڑ دیں گے – “ان کے خیال میں اس بڑے اسکینڈل کے بعد بول اس وقت سے پہلے مر جاے گا – جبکہ پچھلے کئی ماہ سے میڈ یا سے باھر رہنے والے بے شمار اینکر حظرات پہلے سے ھی پرشانی کا شکار ھیں اور اس سکینڈل کے بعد تو وہ ھر صورت اپنے سابقہ چینلز پر جانے کے لیے بے تاب نظر آتے ھیں “

جبکہ دوسری طرف،ان اینکرز کو واپس لینے سے پہلے دیگر میڈیا گروپس کے مالکان اب اس ‘ڈرامہ’ کے اختتام کا انتظار کر رھے ھیں

Leave a Reply

English English Urdu Urdu زبان کا انتخاب کریں