Fear of getting banned for Europe travel, Dr Shireen Mazari chickens out and deletes her anti-France tweet

Fear of getting banned for Europe travel, Dr Shireen Mazari chickens out and deletes her anti-France tweet

By Irum Saleem

Fear of getting a travel ban to Europe was the reason behind chickening out of Federal Minister for Human Rights Dr Shireen Mazari before France. The otherwise so-called human rights champion Mazari quickly removed her tweet about French President Emmanuel Macron after the authorities in Paris strongly reacted.

She appears to be one of the “Kagzi Sher of PTI who first roared and then chi chickened out.”

shireen mazari tweet on france makron

France’s foreign ministry “condemned” the minister’s remarks on a tweet and called upon the Pakistan authorities to withdraw the comments in which Dr Mazari had alleged that the French president was treating Muslims in his country like “Nazis had treated Jews during World War II.”
Chickening out fast after warning from France that she would be banned for Europe, Mazari rushed to delete her tweet to save her skin.

“An earlier version of this article incorrectly stated that ID numbers would be exclusively for Muslim children in France. This has been amended to reflect the fact that the draconian measures within the bill will be in place for all children in Macron’s bid to fight against what he has declared as ‘Islamist separatism’. We sincerely apologise for earlier error in reporting the facts of this story,” says the clarification posted on the website.
Mazari did not have the guts like her leader and took and immediate U-turn once she found herself in trouble.

Let’s see her daughter Imaan Mazari do any tweet championing the human rights. But she will keep the mum and both can’t afford Europe ban. Who knows where this PTI government will be tomorrow so found it better to apologise from France.

Earlier, reacting strongly, spokeswoman for France’s Foreign Ministry Agnes von der Muhll said

“These hateful words by Mazari are blatant lies, imbued with an ideology of hatred and violence. Such slander is unworthy of this level of responsibility. We reject them with the greatest firmness,” Reuters news agency quoted the foreign ministry spokeswoman as saying.
She also said that France had informed the Pakistan embassy of its “strong condemnation” of the comments.

In reaction to the news article stating that the French government was planning to issue special identity numbers to the Muslim children, Dr Mazari on Saturday had tweeted: “Macron is doing to Muslims what the Nazis did to the Jews — Muslim children will get ID numbers (other children won’t) just as Jews were forced to wear the yellow star on their clothing for identification.”

Before withdrawing her tweet and following a condemnation by France’s foreign ministry, Dr Mazari posted another tweet stating: “Read link 4 source of story – if fake then get retraction of story published which I gave as link @FranceinPak instead of calling my tweet fake! Btw why are nuns allowed to wear their habit in public places but Muslim women not their hijab? Discrimination, n’est ce pas?”

French President Macron is facing renewed criticism in the Muslim world and abroad over his latest plans to tackle what he calls radical Islam, including asking Muslim leaders in his country to agree to a “charter of republican values”. He also pledged a crackdown against what he called “Islamist separatism” to defend France’s secular values and argued that controversial caricatures should be defended on free speech grounds.
It will be very interesting to see whether Dr Mazari next times sides with hardliners otherwise she is desi liberal.

Its a shame for her that after France warning she embarrassingly ate her own words. What a shame. It is said think before you speak… Dr Mazari. PAK DESTINY

فرانسیسی حکومت کے احتجاج کے بعد شیریں مزاری کو ٹویٹ ہٹانا پڑی

  • منزہ انوار
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

22 نومبر 2020

فرانس کی طرف سے شدید احتجاج سامنے آنے کے بعد پاکستان کی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کے بارے میں ٹوئٹر پر جاری کیا گیا ایک بیان حذف کر دیا ہے۔

فرانس کی وزارتِ خارجہ نے پاکستانی حکام سے شیریں مزاری کے اس بیان کی تصحیح کا مطالبہ کیا تھا جس میں انھوں نے صدر ایمانویل میکخواں کے فرانسیسی مسلمانوں کے ساتھ سلوک کو دوسری جنگ عظیم کے دوران نازیوں کے یہودیوں سے روا رکھے گئے سلوک سے تشبہیہ دی تھی۔

پاکستان میں فرانسیسی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ میں شامل وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کے الفاظ کو فرانسیسی صدر اور ملک کے لیے انتہائی توہین آمیز اور شرمناک قرار دیتے ہوئے، اس بیان کی تصحیح کرنے اور بات چیت کی راہ اختیار کرنے کا کہا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ’یہ گھٹیا الفاظ سراسر جھوٹ ہیں جو نفرت اور تشدد کے نظریات پر مبنی ہیں۔ اتنے ذمہ درانہ عہدے پر رہنے والی شخصیت کی جانب سے ایسے تبصرے انتہائی شرمناک ہیں اور ہم ان کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔‘

بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انھوں نے پاکستان کے حوالے سے فرانس میں موجود متعلقہ محکمے کو انتہائی سخت سے سخت الفاظ میں اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا ہے۔


بی بی سی نے اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری سے رابطہ کرنے کی بارہا کوشش کی لیکن اس خبر کے شائع ہونے تک ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

دریں اثنا انھوں نے اپنی ٹویٹ ہٹا دی ہے اور اس حوالے سے لکھا ہے کہ ’پاکستان میں فرانسیسی سفیر نے مجھے ایک پیغام بھیجا ہے جس میں لکھا ہے کہ جس مضمون کا میں نے حوالہ دیا تھا، متعلقہ ویب سائٹ نے اس میں تصحیح کر دی ہے۔‘

جس کے جواب میں فرانسیسی سفارت خانے نے انھیں جواب دیا کہ ’اصلاح اور معذرت کے لیے آپ کا شکریہ۔ جمہوریتوں میں آزادیِ اظہار اور مباحثے ضروری ہیں تاہم انھیں توثیق شدہ اور درست حقائق پر مبنی ہونا چاہیے۔‘

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بی بی سی کی طرف سے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ’شیریں مزاری نے اپنی ٹویٹ ہٹا دی ہے لہذا ہمارا موقف اب وہی ہے جو شیریں مزاری نے اپنی حالیہ ٹویٹ میں لکھا ہے۔‘


یاد رہے گذشتہ ہفتے فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے فرانس کے مسلم رہنماؤں سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ ‘جمہوری اقدار’ کے چارٹر سے اتفاق کریں جو کہ فرانس میں انتہا پسند اسلام کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔

بدھ کو فرانسیسی صدر نے فرینچ کونسل آف مسلم فیتھ (سی ایف سی ایم) کو 15 دن کی مہلت دی کہ وہ اس عرصے میں فرانس کے وزارت داخلہ کے ساتھ کام کریں۔

سی ایف سی ایم نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ نیشنل کونسل آف امام قائم کرے گی جو کہ ملک میں مساجد میں اماموں کی تقرری کے لیے باضابطہ اجازت نامے جاری کرے گی اور ان اجازت ناموں کو واپس بھی لے سکے گی۔

یہ فیصلے ملک میں گذشتہ چند ہفتوں میں ہونے والے تین حملوں کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں انتہا پسند اسلام کا پرچار کرنے والے افراد ملوث تھے۔

اس چارٹر میں درج ہوگا کہ ’اسلام ایک مذہب ہے، نہ کہ سیاسی تحریک اور فرانس میں مسلم گروہوں میں ’بیرونی مداخلت‘ پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

بدھ کو ہی فرانس کے صدر اور ان کے وزیر داخلہ گیرالڈ ڈارمانن نے سی ایف سی ام کے آٹھ رہنماؤں سے ملاقات کی۔

فرانس کے اخبار لے پیریرزین کو ذرائع نے بتایا کہ ’دو رہنما اصول اس منشور میں واضح طور پر درج ہوں گے اور وہ یہ ہیں کہ سیاسی اسلام اور بیرونی مداخلت قطعی نامنظور ہیں۔‘


اس کے علاوہ فرانسیسی صدر نے مزید اقدامات کا اعلان کیا جس کے تحت وہ ملک میں ’اسلام پسند علیحدگی‘ کا مقابلہ کریں گے۔ ان اقدامات میں ایک ایسا بِل شامل ہے جو انتہا پسندی کے خلاف ہے اور اس میں درج ذیل قوانین ہیں:

  • گھر پر پڑھانے پر پابندی اور ان لوگوں کے لیے سخت سزائیں جو سرکاری ملازمین کو مذہبی بنیادوں پر ڈرائیں دھمکائیں
  • بچوں کو شناختی نمبر دینا جس کے تحت اس بات کی نگرانی کی جا سکی گی کہ وہ سکول جا رہے ہیں۔ جو والدین قانون کی خلاف ورزی کریں گے ان پر بھاری جرمانے لگائے جائیں گے اور چھ ماہ کی جیل بھی ہو سکتی ہے
  • ایسی ذاتی معلومات کی ترسیل پر پابندی جو کسی شخص کی ذات کے لیے خطرہ بن سکتی ہوں اور دشمن عناصر ان معلومات کو استعمال کر کے اس شخص کو نقصان پہنچا سکتے ہوں

وزیر داخلہ ڈارمانن نے کہا کہ ’ہمیں اپنے بچوں کو سخت گیر اسلام پسندوں کے چنگل سے بچانا ہوگا‘۔

یہ بل فرانسیسی کابینہ میں نو دسمبر کو پیش کیا جائے گا۔

یاد رہے فرانسیسی استاد سیموئیل پیٹی کو گذشتہ ماہ ان کے سکول کے باہر قتل کر دیا گیا تھا اور اس سے قبل ان کے خلاف انٹرنیٹ پر مہم بھی چلائی گئی تھی۔

وفاقی وزیر اور فرانسیسی سفارت خانے کے مابین ٹویٹر پر نوک جھوک

’دی مسلم وائب‘ نامی ویب سائٹ نے اوپر بیان کیے گئے اقدامات کو غیر مبہم الفاظ میں اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا اور گذشتہ روز پاکستان کی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اسی خبر کو شئیر کرتے ہوئے تبصرہ کیا جو بعد میں انھیں حذف کرنا پڑا۔

شیریں مزاری نے مزید لکھا ’مسلمان بچوں کو اسی طرح کپڑوں کے اوپر شناختی نمبر پہننے پر مجبور کیا جائے گا جیسے یہودیوں کو پیلے رنگ کا ستارہ پہننے پر مجبور کیا گیا تھا۔‘

پہلے تو پاکستان میں موجود فرانسیسی سفارت خانے نے وفاقی وزیر کی اسی ٹویٹ کو فیک نیوز اور بہتان قرار دیا۔ جس پر شیریں مزاری نے اگلے دن ایک اور ٹویٹ میں انھیں مذکورہ آرٹیکل پڑھنے کا مشور دیتے ہوئے لکھا ’اگر یہ فیک نیوز ہے تو میری ٹویٹ کو فیک کہنے کے بجائے جہاں یہ خبر شائع کی گئی ہے، وہاں سے اسے ہٹوائیں۔‘

ساتھ ہی شیریں مزاری نے یہ بھی لکھا ’ویسے یہ تو بتائیے کہ عوامی مقامات پر راہباؤں کو سر ڈھکنے کی اجازت کیوں ہے جبکہ مسلمان عورتیں حجاب نہیں پہن سکتیں؟ کیا یہ امتیازی سلوک نہیں ہے؟‘

اس کے علاوہ شیریں مزاری نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ (جس میں کہا گیا تھا کہ فرانس جس آزادیِ اظہار کا پرچار کرتا ہے، دراصل وہاں اتنی آزادیِ اظہار نہیں) شئیر کرتے ہوئے فرانسیسی سفارت خانے کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا، اگر یہ رپورٹ بھی فیک ہے تو اس کا الزام ایمنسٹی پر لگائیں۔

شیریں مزاری کے ٹویٹر پر دیے گئے ان ہی بیانات کے ردِعمل میں فرانسیسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے اوپر دیا گیا بیان جاری کیا گیا ہے۔

یاد رہے گذشتہ ماہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے فرانس میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی تھی اور وفاقی کابینہ نے گستاخانہ خاکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس حوالے سے مسلمانوں کے جذبات کی موثر نمائندگی کے لیے ہر دستیاب فورم استعمال کرنے کا اعادہ کیا تھا۔

ٹویٹر پر یہ نوک جوک صرف شیریں مزاری اور فرانسیسی سفارت خانے تک محدود نہیں رہی اور کئی پاکستانی صارفین اس حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں اور ایک ناختم ہونے والی بحث جاری ہے۔

مصنفہ فاطمہ بھٹو نے بھی اسی خبر کے حوالے سے ٹویٹ کیا ’میکخواں مسلمان بچوں کو قانون کے تحت ایک شناختی نمبر دینا چاہتے ہیں جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا کہ وہ سکول جا رہے ہیں؟‘

جس پر فرانس میں مقیم پاکستانی صحافی طحہ صدیقی نے ان سے پوچھا ’اس آرٹیکل میں کہاں لکھا ہے کہ یہ شناخت صرف مسلمان بچوں کو دی جائے گی؟‘

طحہ کا کہنا تھا کہ مغرب کے بیشتر ممالک کی طرح فرانس کے بھی اپنے ملک میں رہنے والی مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے ساتھ کشیدہ تعلقات ہیں (جس کی وجہ ماضی کا نوآبادیاتی نظام، جدید دور میں لڑی جانے والی جنگوں میں فرانس کی شرکت، نسل پرستی اور دائیں بازو کی سیاست کا عروج ہے)۔

انھوں نے فاطمہ کو کہا کہ اپنا نقطہ نظر سمجھانے کے لیے لوگوں کو گمراہ نہ کریں۔

صحافی مشرف زیدی لکھتے ہیں فرانس، مسلمان بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کے حوالے سے پریشان نہیں ہے ’البتہ انھیں پریشانی ہے کہ کوئی ان کے اس سلوک کا موازنہ 1930 اور 1940 میں نازیوں کے یہودی بچوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک سے کرے گا۔‘

ساتھ ہی انھوں نے لکھا ’اگر فرانسیسی موازنہ پسند نہیں کرتے ہیں تو اس کی تصحیح کرنا فرانس پر ہے، ٹھیک ہے نا؟‘

ایک اور صارف نے لکھا ’شکر ہے شریں مزاری وزیرِ خارجہ یا سلامتی کی قومی مشیر نہیں ورنہ اب تک ہم آدھے درجن ملکوں کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہوتے۔‘


  1. Muzaffar Iqbal Reply
  2. Syed A U Sherazi Reply

Leave a Reply