fbpx

چیف جسٹس کے سخت نوٹس،سرزنش کے باوجود برگیڈئیر ستی عدالت میں پیش نہ ہوئے

justice-qasim-khan-lahore-high-court-pakistan-army

– لاہور ۔ ناظم ملک –

– چیف جسٹس نے ڈی ایچ اے کے سربراہ کو بیج اور ٹوپی اتار کے پیش ہونے کا حکم دیا تھا

– چیف جسٹس نے ڈی ایچ اے کے وکیل کی طرف سے فوج کے خلاف سخت زبان کو خذف قرار دینے کی استدعا مسترد کردی

– برگیڈئیر ستی کی جگہ ڈائیریکٹر لیگل پیش ہوئے

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے شدید برہمی اور سخت نوٹس طلبی کے باوجود سربراہ ڈی ایچ اے لاہور برگیڈئیر ستی عدالت میں پیش نہ ہوئے،گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قاسم خان کی طرف سے ایک مقدمے میں فوج کے خلاف ریمارکس نے ایکدم ہلچل سی مچا کےرکھ دی تھی،

گزشتہ روز چیف جسٹس نے اوقاف کی زمینوں پر ڈی ایچ اے کی طرف قبضوں کے کیس میں دوران سماعت ریمارکس دئے تھے کہ ڈی ایچ اے لاہور کے ایڈمنسٹریٹر برگیڈئیر ستی اپنے بیج اور ٹوپی اتار کر ہر صورت جمعرات کو ان کی عدالت میں پیش ہوں لیکن وہ پھر بھی نہ آئے اور ان کی جگہ ڈائیرکٹر لیگل نے پیش ہوکر عدالت کو کیس سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا،

بدھ کے روز سماعت میں چیف جسٹس نے اوقاف کی زمینوں پر ڈی ایچ اے کے قبضوں کے کیس فوج کے خلاف سخت ریمارکس دئے تھے انہوں نے کہا تھا کہ
*آپ پولیس کی بات کررہے ہیں یہاں آرمی نے ہائیکورٹ کی 50کنال اراضی پر قبضہ کیا ہوا ہے،میں آج رجسٹرار کو کہ رہا ہوں آرمی چیف کو لیٹر لکھیں یہ آرمی کیا کر رہی ہے،رجسٹرار ہائیکورٹ میری طرف سے یہ لیٹر لکھے گا،لگتا ہے فوج سب سے بڑی قبضہ گروپ بن گئی ھے،کل کور کمانڈر اور ڈی ایچ اے کو بلا لیتا ہوں،یہ معاملہ رسہ گیری کی قسم ھے۔فوج کا کام قبضہ گیری ھے؟ میں کور کمانڈر لاھور کو لم طلب کر لیتا ہوں،فوج نے جگا گیری بنائی ہوئی ھے۔فوج کا کام قبضہ کرنا نہیں،میرے منہ سے فوج سے متعلقہ جملہ غلط نہیں نکلا اللہ تعالیٰ نے میرے منہ سچ بلوایا،آرمی کی جانب سے اراضی پر قبضہ کرنا رسہ گیری کی ایک قسم ھے۔

اراضی سے متعلق مخالف کا تعلق آرمی سے ہے اور وہاں سے جواب نہیں آتا۔ درخواست گزرا

مجھے بطور جج11سال ہوگئے ہیں کسی کی جرات نہیں کہ آج تک مجھے جواب نہ جمع کروائے
مجھے جواب منگوانا آتا ھے اور یہ صرف دو دن کا کام ھے۔چیف جسٹس قاسم خان نے ڈی ایچ اے کے بریگیڈیئر ستی کو فوری طلب کرلیا
بریگیڈیئر ستی اپنے اسٹار اتار کر آئیں بریگیڈیئر کو یہیں سے جیل بھجواوں گا چیف جسٹس قاسم خان
ڈی ایچ اے لاہور اور سی سی پی او لاہور کو بلوا لیں آج اور ابھی۔وردی قوم کی سروس کے لیے ہے بادشاہت کے لیے نہیں ہے،آپ لوگ قبضہ گروپ بنے ہوئے ہیں ۔چیف جسٹس کا ڈی ایچ اے کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ لوٹ کہ کھا گئے ہیں آپ لوگ برگیڈئیر صاحب کو کہیں اپنے سٹار اور اپنی کیپ اتار کہ آئے ادھر سے ہی انہیں جیل بھیج دوں گا سی سی پی او کو کہو اگر پانی ہے تو خود ا جائے ورنہ آئی جی آئے
ویسے تو آئی جی میں بھی پانی نہیں ھے،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس قاسم علی خان نے جمعرات کو کہا ہے کہ جب فوج کے حاضر سروس افسر ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) اور اس کے جیسے دیگر اداروں میں کام کریں گے تو ان کا احتساب ہوگا۔ 

انہوں نے یہ ریمارکس متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی پر ڈی ایچ اے کے مبینہ قبضے کے خلاف درخواست پر آج سماعت کے دوسرے روز دیے۔
ڈی ایچ اے لاہور کے وکیل نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ انہوں نے جو گذشتہ روز دوران سماعت فوجی افسران سے متعلق ریمارکس دیے اس سے ادارے میں تشویش پائی جاتی ہے لہٰذا انہیں کارروائی سے حذف کرنے کا حکم دیا جائے۔

چیف جسٹس قاسم علی خان نے کہا کہ جب فوج کے حاضر سروس افسران ڈی ایچ اے اور گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی جیسے اداروں میں کام کریں گے تو ان کا احتساب ہوگا۔ ’میرے ریمارکس بطور کلاس آرمی کے خلاف نہیں تھے۔ آپ کے کچھ لوگوں کے رویے کی وجہ سے ریمارکس تھے جو حذف نہیں ہوسکتے۔‘

چیف جسٹس نے قراردیا کہ ’اگر میری جائیداد پر کوئی شخص قابض ہو جائے تو میں اس کو قانون کے بغیر نہیں نکال سکتا۔ اس لیے یہ لوگ عدالت میں آئے تاکہ انصاف حاصل کر سکیں۔‘

ان کا ریمارکس میں مزید کہنا تھا: ’ہمارا آئین کہتا ہے کہ ہم نے اقلیتوں کی، ان کی جائیدادوں اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرنی ہے۔ یہ معاملہ کسی وقت حکومت کے گلے پڑ جائے گا۔ یہ ایف اے ٹی ایف سے زیادہ بڑا مسئلہ بن جائے گا۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو اقلیتوں کی وقف جائیداد بھی ہڑپ کر گئے ہیں۔‘

’11 سال ہو گئے ہیں، کئی جگہوں پر اپنے آپ پر جبر کر کے آجاتے ہیں۔ چار وکیل کسی رکشے والے کے ساتھ دنگا فساد کرتے ہیں تو نام کس پر آتا ہے؟ ہائی کورٹ کا جج کسی ادارے میں بیٹھا تو اس نے اپنا ڈیکورم برقرار رکھنا ہے۔‘

انہوں نے ریمارکس دیے کہ فوج کے حاضر سروس لوگ ڈی ایچ اے میں آ کر غلط کام کریں گے تو بدنام کون ہو گا؟ اور اس کا ذمہ دار کسے سمجھا جائے گا؟

چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کے 22 کروڑ عوام اس فوجی، جو کشمیر، سیاچن اور دیگر محاذوں پر بیٹھا ہے، کا احترام اس کے ساتھیوں سے زیادہ کرتے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے 2007 کے فیصلے میں ڈی ایچ اے کا زمین پر حق معطل ہو چکا ہے۔

اس پر فاضل چیف جسٹس نے ڈی ایچ اے کے وکیل کو حکم دیا کہ درخواست گزاروں کی زمین کی قانونی حیثیت تبدیل نہ کی جائے اور آپ ڈی ایچ اے انتظامیہ سے ہدایات لے کر تین مئی کو پیش ہوں۔

چیف جسٹس قاسم علی خان نے گذشتہ روز اس کیس کی سماعت کے دوران ایڈمنسٹریٹر ڈی ایچ اے بریگیڈیئر ستی کو وردی اور ٹوپی کے بغیر پیش ہونے کا حکم دیا تھا لیکن وہ پیش نہ ہوئے اور ان کی جگہ ڈائریکٹر لیگل ڈی ایچ اے پیش ہوئے تھے۔

کیس تھا کیا؟

متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی پر ڈی ایچ اے کے قبضے کے خلاف دائر کی گئی پٹیشن میں درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ 300 کنال سے زائد متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی انہوں نے 2020 سے لیز پر حاصل کی،درخواست کے مطابق تاہم ڈی ایچ اے نے لیز شدہ اراضی پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ ڈی ایچ اے سے قبضہ ختم کروانے کا حکم دیا جائے۔

وکیل ڈی ایچ اے نے عدالت کو بتایا کہ 2007 میں لیفٹیننٹ جنرل ذوالفقار نے بطور چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ ڈی ایچ اے کو 1742 کنال زمین دی، جس کے بدلے بورڈ نے 33 فیصد ڈیولپڈ پلاٹ مانگے، تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت آنے کے بعد آصف اختر ہاشمی نے بطور چیئرمین 33 فیصد کی بجائے 25 فیصد پلاٹ مانگے۔

تاہم متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی میں چونکہ سکھ کمیونٹی کا گوردوارہ بھی آتا تھا، لہذا سابق چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری نے ازخود نوٹس لیا اور گوردوارہ سکھ کمیونٹی کو دینے کا حکم دیا۔

گذشتہ روز ہونے والی سماعت کے بعد ڈی ایچ اے لاہور کے لیگل ایڈوائزر الطاف الرحمٰن نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا تھا کہ ’ڈی ایچ اے اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے درمیان 1742 کنال زمین کا معاملہ سپریم کورٹ میں طے ہوچکا ہے، جس کے تحت متروکہ وقف املاک بورڈ نے رضامندی سے یہ زمین ڈی ایچ اے کو دی اور بدلے میں ڈیویلپڈ کمرشل اور رہائشی پلاٹ لینے کا معاہدہ طے پایا، لیکن سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے املاک بورڈ نے زمینوں کی تین سالہ لیز پر الاٹمنٹ جاری رکھی اور جو درخواست گزار عدالت آئے انہیں دی گئی۔‘

انہوں نے متروکہ وقف املاک بورڈ کے اقدام کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاملہ طے ہوا تھا کہ بورڈ اب کسی کو بھی زمین الاٹ نہیں کر سکے گا لیکن غیر قانونی اقدام میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی کی بجائے ڈی ایچ اے کے خلاف ریمارکس دیے گئے۔

|Pak Destiny|

7 Comments

  1. Eva Syeda Reply
  2. Sarwar Saleem Reply
  3. Shamsher Ali Reply
  4. Jr Apna Pan Reply
  5. SU Baig Reply
  6. Zafar Ali Reply
  7. Muhammad Israr Reply

Leave a Reply