fbpx

Kitnay Admi Thay… Debate on PDM rally number at Minar-i-Pakistan still on… Jan 31 deadline given to Imran Khan to step down or face long march

Kitnay Admi Thay... Debate on PDM rally number at Minar-i-Pakistan still on... Jan 31 deadline given to Imran Khan to step down or face long march

By Irum Saleem

Debate is still on whether PDM Minar-i-Pakistan rally was a big or small show. PMLN saying more than 200,000 people attended the rally. The government saying it was not more 10,000 people show.

So how it be determined that this was a successful show or not.
But one thing is there PDM or PMLN failed to fight it’s case on media.
Moat of the media pained the show a failed one.

Besides, PDM could not address one major grey area of the rally. And that was about not giving a “clear roadmap” as how to oust the Imran Khan government.

Some pro PMLN anchors like Gharidah Farooqi concerned that Minar-i-Pakistan rally of PDM wasn’t that impressive.

PDM should now do some repair work as if it rests for more than a month and resumes it’s protest campaign.

PDM chief Maulana Fazlur Rehman has announced in a presser that the Imran Khan government should step down by Jan 31 otherwise a long march be announced on Feb 1.The PDM has made the decision in utter desperation.
The game is on. PAK DESTINY

لاہور: پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہی اجلاس کے بعد رہنماوں مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کی جاتی امرا میں میڈیا سے گفتگو
مولانا فضل الرحمان
ہنگامی سربراہی اجلاس میں 31 دسمبر تک پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں کے منتخب اراکین اسمبلی اپنے اپنے استعفے اپنی اپنی قیادت کو جمع کرائیں گے
حکومت 31 جنوری تک مستعفی ہو جائے ورنہ یکم فروری میں لانگ مارچ کا اعلان کر دیا جائے گا
عوام آج سے ہی لانگ مارچ کی تیاریاں شروع کر دے
مینار پاکستان کا تاریخی اور فقید المثال جلسہ کے بعد پی ڈی ایم نے اعلامیہ بھی جاری کیا ہے
پی ڈی ایم کی سٹیئرنگ کمیٹی کا صوبوں کو لانگ مارچ کی تیاری کے سلسلے میں جاری کیا گیا شیڈول بدستور برقرار ہے
ہر صوبے میں میزبانی کمیٹیاں صوبائی قیادت سے مل کر لانگ مارچ کی حتمی تیاری کریں گی
اجلاس میں سخت ناراضگی کا اظہار کیا گیا اور مذمت کی گئی کہ آئی ایس پی آر نے الیکٹرانک میڈیا پر جلسے کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے لئے دباو ڈالا
ہم میڈیا کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن حکمران اور آمرانہ ذہنیت والے لوگ میڈیا کو گھر کی لونڈی بنا رہے ہیں
سیاسی جماعتیں اپنے اپنے منشور پر انتخابات لڑتی ہیں
ہم تمام جماعتیں ایسے کوئی اقدامات نہیں کرینگی کہ جمہوریت کو کوئی نقصان نہیں ہو گا
اگر یہ استعفے اور اسمبلیاں تحلیل کر دیتے ہیں تو پھر پی ڈی ایم کی مشاورت سے مذاکرات کا فیصلہ ہو سکتا ہے
اس حکومت کے پاس دفاع کی صلاحیت ہی نہیں ہے

READ  حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مارو یا مرو کافائنل راونڈ شروع ہوگیا

مریم نواز
چند چینلز نے جھوٹی خبر چلائی، وہ ایسے پروپیگنڈے سے باز آ جائیں
میں نے لاہور کی تنظیم اور خواتین کو دونوں ہاتھوں سے سلام کیا
میں نے جلسہ گاہ چھوٹا رکھنے کی بات ضرور کی کیونکہ بہت سے لوگ رش کی وجہ سے اندر ہی نہیں آ سکے تھے
لوگ گھنٹوں کھڑے رہے اور رش کی وجہ سے کرسیاں نجانے کہاں غائب ہو گئی تھیں
شدید سردی کے باوجود عوام کا جوش و خروش بہت زیادہ تھا
کورونا، حکومتی پروپیگنڈے، پانی چھوڑنے کے باوجود لاہور نے کسی چیز کی پرواہ نہیں کی
حکومت کو بھی حقیقت کا پتہ چل گیا ہے اور ان کے ہاں صف ماتم بچھی ہوئی ہے
ہم اب عوام کی عدالت میں جا چکے ہیں، اب سلیکٹڈ اور سلیکٹرز کو پیچھے جانا ہی پڑے گا
پی ڈی ایم کو انتخابی اتحاد میں بدلنے قبل از وقت ہو گا
ہم مشترکہ عوامی ایجنڈے پر متفق ہیں
عمران خان کے استعفے کے بعد ہم انتخابی حریف ہی ہیں 

بلاول بھٹو زرداری

ہم سب ایک ہیں اور پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے فیصلے کرینگے
اب مذاکرات نہیں بلکہ عمران خان استعفے کا وقت ہے
شہباز شریف سے تعزیت کے لئے جیل جا رہا ہوں

Leave a Reply

LATEST