fbpx

Goofy Shoiab Sheikh paid the price for hiring ‘agents’ of MSR
‘فارغ العقل’ شعیب شیخ کی بساط میر شکیل کے مہروں نے لپیٹ دی

اردو کیلئے یہاں کلک کریں

By Iram Salim

Islamabad (Pakdestiny.com) “Ultra-goof” Shoaib Sheikh hired the ‘agents” of Mir Shakilur Rehman and he paid the price for his unforgivable mistake.
“The media industry knows the old trick of MSR – sending his men in any new organization with a task to fail it – but this goof, Shoiab Shiekh, did not know about this,” a senior journalist with BOL TV told Pakdestiny.com. “Mr goof was told not to blindly hire a large number of journalists only from Geo/Jamg group. But the fake degree accused did not pay heed to our suggestions,” he said.
Who could be the prime suspect or agent of MSR? most journalists associated with BOL said – either Kamran Khan or Azhar Abbas. One of them at least ensured that BOL does not come out till a mega scandal surfaces regarding BOL’s parent company Axact. “So the BOL TV which could be launched last year was deliberately delayed by one of the these gentlemen and meanwhile more agents of MSR and Sultan Lakhani were planted in the team BOL that helped trigger its premature demise,” they said.
Kamran Khan must be thinking sitting London that “goofy Sheikh ko khoob mamu banaya.” Pakdestiny

ارم سلیم سے

اسلام آباد – پاک ڈیسٹنی –  ‘فارغ العقل ‘ شعیب شیخ نے میر شکیل الرحمن کے ھی ‘ایجنٹوں’ کی خدمات حاصل کر کے اپنی ناقابل معافی غلطی کی قیمت ادا کی۔

بول ٹی وی کے  ایک سینئر صحافی نے پاک ڈیسٹنی کو بتایا کہ ‘میڈیا کی صنعت میر شکیل کی یہ پرانی چال جانتی ھے کہ وہ  کسی بھی نئی تنظیم کو فیل کرنے کے لیے اپنے ‘ایجینٹ’ استعمال کرتا ھے مگر  ‘غبّی’ آدمی کو یہ چیز نہ پتہ چل سکی’۔
‘اس عقل سے پیدل انسان کو سمجھایا بھی گیا کے صحافیوں کی ایک بڑی تعداد صرف جنگ/جیو سے نہ لی جائے مگر اس نے اس معاملے پر آنکھیں بند رکھیں اور ہماری تجاویز پر توجہ نہیں دی ‘ سینئر صحافی نے مزید بتای –

اب سوال یہ ھے کہ کس پر میر شکیل کے ایجینٹ ھو نے کا شبہ کیا جا سکتا ھے ؟زیادہ تر بول کے ساتھ منسلک صحافیوں کا خیال ھے کہ شک کامران خان یا اظہر عباس کے اوپر جاتا ھے۔ ان میں سے کسی ایک نےجان بوجھ کر اس چیز کو یقینی بنایا کے کم از کم بول اس وقت تک لانچ نہ ھو سکے جب تک کہ اس کی فنانسر ایگزیکٹ کمپنی کا بڑا سکینڈل سامنے نہ آئے ۔ انہوں نے بتایا کہ ‘ جبکہ بول ایک سال پہلے ھی شروع ھو سکتا تھا مگر ان دونوں میں سے کسی ایک حظرت کی وجہ سے ایسا نہ ھو سکا جبکہ اس دوران میر شکیل اور سلطان لاکھانی کے مزید ‘ایجنٹوں’ کی بھرتی کا سلسلہ بھی جاری رھا جو کہ بول کی وقت سے پہلے اپنی موت آپ مر گیا ‘

‘لندن بیٹھ کر کامران خان ضرور یہ سوج رھا ھو گا کہ شعیب شیخ کو کیا خوب ماموں بنایا’

Your Opinion is Valuable

Popular Posts